جناب مفضل بن عمر کا سوال
جناب مفضل بن عمر روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے امام جعفر صادقؑ سے سوال کیا:
“مولا، نماز میں سلام واجب کیوں ہے؟”
تو امامؑ نے فرمایا:
“کیوں کہ یہ تحلیل نماز ہے۔ جب بندہ تکبیرہ الاحرام کہتا ہے تو اس پر بہت سی چیزیں حرام ہو جاتی ہیں — جیسے بات کرنا، ہنسنا، رونا، کھانا پینا — مگر جب وہ سلام کہتا ہے تو یہ چیزیں دوبارہ حلال ہو جاتی ہیں۔”
دائیں طرف اشارہ کیوں کیا جاتا ہے؟
مفضل نے پوچھا، “سلام میں صرف دائیں طرف اشارہ کیوں کیا جاتا ہے؟”
امامؑ نے فرمایا:
“اس لیے کہ نیکیاں لکھنے والا فرشتہ دائیں جانب ہوتا ہے، اور گناہ لکھنے والا بائیں طرف۔
نماز نیکیوں کا مجموعہ ہے — اس میں کوئی گناہ نہیں — اس لیے سلام صرف دائیں جانب کیا جاتا ہے۔”
“علیک” نہیں بلکہ “علیکم” کیوں؟
مفضل نے سوال کیا:
“جب ایک ہی فرشتہ ہے تو ‘السلام علیک’ کیوں نہیں کہتے؟”
امامؑ نے فرمایا:
“ہم ‘علیکم’ کہتے ہیں تاکہ دائیں جانب والے فرشتے کے ساتھ بائیں جانب والے فرشتے کو بھی شامل کیا جا سکے۔
اور دائیں جانب والے فرشتے کی طرف اشارہ دینا دراصل اس کے اعزاز کے لیے ہوتا ہے۔”
پورے چہرے سے اشارہ کیوں نہیں؟
“سلام میں پورے چہرے سے اشارہ کیوں نہیں کیا جاتا؟”
امامؑ نے فرمایا:
“فرادیٰ نماز میں ناک کے ذریعے اشارہ کیا جاتا ہے،
جماعت میں آنکھ کے ذریعے — کیونکہ فرشتے نمازی کے دہن کے دائیں گوشے پر ہوتے ہیں۔
نمازی اس لیے اشارہ کرتا ہے تاکہ وہ فرشتہ اس کی نماز اعمال کے رجسٹر میں درج کر لے۔”
مقتدی تین سلام کیوں کہتا ہے؟
مفضل نے دریافت کیا:
“مقتدی تین بار سلام کیوں کہتا ہے؟”
امامؑ نے فرمایا:
“پہلا سلام امام کے جواب میں اور اس کے ہمراہ فرشتوں کے لیے،
دوسرا دائیں جانب موجود نمازی اور فرشتوں کے لیے،
تیسرا بائیں جانب نمازی اور اس کے فرشتوں کے لیے۔
اگر بائیں جانب کوئی نہ ہو، تو سلام نہیں کہا جاتا — مگر اگر وہاں نمازی موجود ہو تو سلام واجب ہوتا ہے۔”
امام جماعت کا سلام کس کے لیے ہوتا ہے؟
امامؑ نے وضاحت فرمائی:
“امام جماعت کا سلام اس کے اپنے ساتھ موجود دو فرشتوں کے لیے،
اور ان تمام مقتدیوں کے لیے ہوتا ہے جو اس کی اقتداء میں نماز ادا کر رہے ہوں۔
وہ فرشتوں سے کہتا ہے: ‘میری نماز کو فاسد کرنے والے اسباب سے سلامت لکھو’
اور مقتدیوں سے کہتا ہے: ‘تم پر سلامتی ہو، تم نے اللہ کے عذاب سے امان پا لی ہے’”
کیوں صرف سلام سے نماز ختم ہوتی ہے؟
آخر میں مفضل نے سوال کیا:
“نماز کی تحلیل صرف سلام سے کیوں ہوتی ہے؟”
امامؑ نے فرمایا:
“کیونکہ یہی فرشتوں کا طریقہ سلام ہے۔
اگر بندہ اپنی نماز کو رکوع، سجود، اور سلام کے ساتھ مکمل کرے تو وہ جہنم سے بچ جائے گا۔
قیامت کے دن اس کی نماز قبول ہو گی — اور اگر نماز درست ہوئی، تو باقی اعمال بھی قبول ہوں گے،
لیکن اگر نماز رد ہو گئی تو باقی اعمال بھی رد کر دیے جائیں گے۔”
