قم ایران کا مشہور و معروف اور بڑے شہروں میں سے ایک شہر ہے۔ 2025 کی مردم شماری کے مطابق اس شہر کی آبادی تقریباً چودہ لاکھ ہے۔
ایران کے مرکزی شہروں میں سے ایک ہونے کے ساتھ ساتھ قم شہر کو شیعہ دنیا میں بھی ایک خاص مقام حاصل ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہاں پر ساتویں امام حضرت امام موسیٰ کاظمؑ کی دختر نیک اختر حضرت فاطمہ معصومہ قم سلام اللہ علیہا کا مدفن ہے جنھیں معصومہ قمؑ کے لقب سے بھی جانا جاتا ہے۔
دنیا میں موجود ہر شہر، ملک علاقے کے نام کی کوئی نہ کوئی وجہ وجہ ہوتی ہے۔ بیشتر نام قدیم وقتوں میں کچھ اور تھے اور وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ حالات میں ان میں تبدیلی پیدا کر دی اور ان کی شکل بدل گئی۔
قم نام کی وجہ تسمیہ سے متعلق فقیہ آل محمدؑ، جناب علامہ شیخ صدوق اپنی مشہور و معروف کتاب علل الشرائع میں لکھتے ہیں کہ امام جعفر صادقؑ سے مروی ہے کہ رسول خداﷺ نے ارشاد فرمایا، ‘ جب میں معراج پر گیا اور حضرت جبرائیل ؑ نے مجھے اپنے دائیں کندھے پر اٹھایا تو میں نے سرخ پہاڑی زمین پر ایک خطہ دیکھا۔ اس خطہ زمین کا رنگ زعفران سے ذیادہ خوب صورت اور اس خوشبو کستوری سے بھی ذیادہ مہک دار تھی۔ اس کے ساتھ ساتھ وہاں پر ایک بڈھا شخص بھی تھا اور اس بڈھے نے اپنے سر پر ایک ٹوپی پہن رکھی تھی۔
رسول اللہﷺ فرماتے ہیں کہ میں نے جبرائیل ؑ پوچھا کہ اس زعفران سے ذیادہ خوب صورت رنگ والی اور کستوری سے ذیادہ خوشبودار قطعہ اراضی کی کیا حقیقت ہے؟
تو اس کے جواب میں جبرائیلؑ نے فرمایا، ‘یہ آپﷺ اور آپ کے بھائیؑ کے شیعیوں کی سر زمین ہے۔ ‘
رسول اللہﷺ نے پوچھا، ‘اور وہ ٹوپی والا بڈھا کون ہے وہاں پر؟’
جبرائیلؑ نے جواب دیا، ‘وہ ابلیس ملعون ہے۔’
رسول اللہﷺ نے پوچھا، ‘تو وہ یہاں پر کیا کر رہا ہے اور ان سے کیا چاہتا ہے؟’
جبرائیلؑ نے بتایا، ‘اس کا مقصد آپ اور آپ کے بھائی کے شیعوں کو ولایت امیر المومنینؑ سے روکنا ہے اور انہیں فسق و فجور کی دعوت دینا ہے۔’
رسول اللہﷺ نے کہا مجھے نیچے اتارو۔ تو جبرائیلؑ نے چمکنے والی بجلی اور روشن نظر سے بھی ذیادہ تیزی کے ساتھ وہاں اتار دیا۔
رسول اللہﷺ نے ابلیس سے مخاطب ہو کر کہا، ‘قم، یا ملعون! رک، او ملعون! جا شیعوں کے دشمنوں کے مال و اولاد اور عورتوں میں اپنے ساتھی تلاش کر۔ میرے اور علیؑ کے شیعوں پر تیرا زور نہیں چل سکتا۔
مولاؑ فرماتے ہیں کہ چونکہ رسول اللہﷺ نے وہاں پر شیطان کو قم (رک جا) کہا تھا، اسی وجہ سے اس کا نام قم پڑ گیا۔
خدا ہم سب کو تعلیمات اہلبیتؑ پڑھنے، سمجھنے، ان پر عمل کرنے اور پھر اس عمل کو اپنی آخرت تک کے لیے محفوظ رکھنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین!
ہم معزز قارئین کی جانب سے مثبت رد عمل کے منتظر ہیں نیز آپ سب کے تعاون کی توقع کرتے ہیں کہ علوم آل محمدؑ کی ترویج میں ہمارے معاون ثابت ہوں اور اس معلومات کو اپنے دوست احباب اور عوام الناس تک پہنچائیں۔ نیز ہماری اصلاح کے لیے کوئی مشورہ یا رائے دینا چاہیں تو تبصرے کے خانے میں ہمیں مطلع فرمائیں۔ آپ کی قیمتی رائے کا احترام کیا جائے گا۔ جزاکم اللہ خیرا
