ریاضی کے سوالات اکثر مشکل ہونے کے ساتھ ساتھ پیچیدہ بھی ہوتے ہیں لیکن در حقیقت ان کا حل کرنا نہایت آسان ہوتا ہے۔
مگر یہ سوالات فقط وہی حل کر سکتا ہے جو علم ریاضی میں مہارت رکھتا ہو اور متعلقہ شعبہ میں اپنی مہارت کا لوہا منوا چکا ہو۔
بلا شک و شبہ امیر المومنین امام علیؑ علم لدنی کے مالک تھے۔ وہ ہمیشہ دعویٰ کیا کرتے تھے کہ مجھ سے جو چاہو پوچھ لو، میں زمین کے راستوں کی نسبت آسمان کے راستوں کو بہتر جانتا ہوں۔
مولا علیؑ نہ صرف فقہ و دین کے عالم تھے بلکہ جس شخص نے بھی، جس وقت بھی، جس جگہ بھی، جس بھی شعبہ سے متعلق امام علیؑ سے سوال کیا امامؑ نے اس کا تسلی بخش جواب دیا۔
اسی طرح کا ایک ریاضی کا سوال امامؑ نے اس وقت حل کیا جب دو سائل درہموں کی تقسیم کا تنازعہ لے کر مولاؑ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔
واقعہ کچھ یوں ہے کہ دو لوگ ناشتہ کرنے بیٹھے۔ ان میں سے ایک شخص کے پاس پانچ روٹیاں تھیں، جب کہ دوسرے شخص کے پاس صرف اور صرف تین روٹیاں تھیں۔
ابھی وہ دونوں لوگ ناشتہ شروع نہ کرنے پائے تھے کہ وہاں سے ایک شخص کا گزر ہوا جو شاید دونوں کا شناسا تھا، اور وہ دونوں اسے جانتے تھے۔
انہوں نے اس جاننے والے کو بھی کھانے میں شامل ہونے کی دعوت دی جس کو اس شخص نے خوشی خوشی قبول کر لیا۔
تینوں لوگوں نے مل کر کھانا کھایا ۔ کھانا کھانے کے بعد اس مہمان نے ان دونوں کا شکریہ ادا کیا اور جانے لگا۔
جانے سے قبل مہمان نے ان دونوں کو آٹھ درہم دیے کہ تم لوگوں نے مجھے کھانے کی دعوت دی تو یہ میری جانب سے آپ لوگوں کے لیے ایک چھوٹا سا تحفہ ہے۔
اب جب ان درہموں کو دونوں کے درمیان تقسیم کرنے کی بات ہوئی تو دونوں میں جھگڑا ہو گیا۔
جس شخص کے پاس پانچ روٹیاں تھیں اس کا کہنا تھا کہ تین درہم تمہارے ہوئے جب کہ باقی کے پانچ درہم میرا حق بنتا ہے۔
اس کے بر عکس دوسرا شخص جس کے پاس صرف تین روٹیاں تھیں وہ بضد تھا کہ درہم آدھے آدھے تقسیم کیے جائیں، یعنی دونوں کو چار چار درہم ملیں۔
جب معاملہ کسی نتیجے پر نہ آیا اور جھگڑے نے طول کھینچا تو دونوں اس بات پر متفق ہوئے کہ معاملے کو امیر المومنین امام علیؑ کی خدمت میں پیش کیا جائے، وہی فیصلہ کریں گے۔
دونوں اس بات پر متفق ہوئے، اور امام علیؑ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور اپنا معاملہ امام ؑ کے گوش گزار کیا۔
امام علیؑ نے جب دونوں کی بات مفصل سن لی تو جس شخص کی تین روٹیاں تھیں اور وہ چار درہم لینے کی ضد کر رہا تھا اسے کہا کہ تمہارا ساتھی جو تمہیں دے رہا ہے وہ لے لو، یہ تمہارے لیے بہتر ہے، ورنہ حقیقت میں تمہارا فقط ایک درہم بنتا ہے۔
اس پردونوں شخص حیران ہوئے اور کہنےلگے مولاؑ ایسے کیسے ہو سکتا ہے؟ ہمیں اس فیصلے کی سمجھ نہیں آئی۔ کچھ باریکی سے سمجھا دیجیے۔
تو امامؑ یوں گویا ہوئے، ‘دیکھو تم کل تین لوگ تھے اور کل آٹھ روٹیاں تھیں۔ لیکن یہ حساب کسی کو نہیں کہ کس نے کتنی روٹی کھائی ہے۔
“اس لیے ہم برابر ہی سمجھیں گے کہ ہر شخص نے ہر روٹی میں سے برابر برابرحصہ کھایا ہے۔ اس حساب سے آٹھ روٹیوں کے تین تین ٹکڑے کریں تو کل چوبیس ٹکڑے ہو گئے۔
“اب ان چوبیس ٹکڑوں میں سے ہر کسی نے آٹھ آٹھ ٹکڑے کھائے۔
“تمہاری تین روٹیاں تھیں، جن کے نو ٹکڑے ہوئے، ان میں سے آٹھ ٹکڑے تم نے خود کھا لیے، ایک ٹکڑا مہمان نے کھایا۔
“اسی طرح تمہارے ساتھی کی پانچ روٹیاں تھیں جن کے پندرہ ٹکڑے تھے، آٹھ اس نے خود کھالیے، باقی کے ساتھ ٹکڑے مہمان نے کھائے۔
“اس حساب سے مہمان نے جو آٹھ ٹکڑے کھائے، ان میں سے ساتھ حصے روٹی تمہارے ساتھی کی تھی، جب کہ صرف ایک حصہ روٹی کا تمہارا تھا۔
“اس طرح آٹھ میں سے سات درہم تمہارے ساتھی کے بنتے ہیں، جب کہ تمہارا صرف ایک درہم بنتا ہے۔”
خدا ہم سب کو تعلیمات اہلبیتؑ پڑھنے، سمجھنے، ان پر عمل کرنے اور پھر اس عمل کو اپنی آخرت تک کے لیے محفوظ رکھنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین!
ہم معزز قارئین کی جانب سے مثبت رد عمل کے منتظر ہیں نیز آپ سب کے تعاون کی توقع کرتے ہیں کہ علوم آل محمدؑ کی ترویج میں ہمارے معاون ثابت ہوں اور اس معلومات کو اپنے دوست احباب اور عوام الناس تک پہنچائیں۔ نیز ہماری اصلاح کے لیے کوئی مشورہ یا رائے دینا چاہیں تو تبصرے کے خانے میں ہمیں مطلع فرمائیں۔ آپ کی قیمتی رائے کا احترام کیا جائے گا۔ جزاکم اللہ خیرا
