جاگیر فدک ان تنازعوں میں سے ایک ہے جو شیعہ سنی فرقوں کے مابین صدیوں سے زیر بحث رہا ہے۔ اہل سنت کے لوگ جب بھی اس متعلق بحث کرتے ہیں تو عموماً آخر میں ان کے پاس بس ایک ہی جواب ہوتا ہے کہ بھلا کھجوروں کے چند ایک درخت ہی تو تھے، اگر بی بی نہ بھی لیتیں تو کیا تھا! یا اگر حاکم نے نہ بھی دیے تو کیا ہو گیا۔
حق غصب کرنا ظلم ہے!
لیکن نکتہ یہ ہے کہ حق کس کا تھا؟ اور ظاہری سی بات ہے جس کا حق ہو اسے ہی ملنا چاہیے اور جس کا نہ ہو اسے نا حق قبضہ نہیں کرنا چاہیے کیوں کہ کسی کا حق غصب کرنا ظلم ہے۔
فدک طلب کرنے کا مقصد
اگرچہ حضرت فاطمہ سلام اللہ علیہا فدک کی آمدنی کو ایسے ہی غرباء و مساکین میں خرچ کرتی تھیں جیسے کہ اس گھرانے کا شیوہ رہا ہے لیکن حاکم سے اپنے حق کا طلب کرنا اس لیے تھا کہ حاکم کا چہرہ بے نقاب ہو جائے اور جو انھوں نے حضرت امیرؑ اور حضرت سیدہ سلام اللہ علیہا کا حق غصب کیا وہ عیاں ہو جائے۔
جاگیر فدک کی سالانہ آمدن
اور برادران جس جاگیر فدک کو کھجوروں کے چند باغات کہتے ہیں اگرچہ کہ تاریخ میں اس کے حدود اربعہ کا ذکر نہیں ملتا لیکن تاریخ نے جاگیر فدک کی سالانہ آمدن کا ذکر کیا ہے۔
خراب موسم میں سالانہ آمدن
جب موسمی حالات سخت اور تند ہوتے اور نا مساعد حالات کے سبب باغات کو پھل اچھا نہ لگتا تو ان مشکل حالات میں جاگیر فدک کی سالانہ آمدن چوبیس ہزار دینار تھی۔
اچھے موسم میں سالانہ آمدن
اگر موسم کے حالات اچھے ہوں اور ان مواقف حالات میں باغات کو اچھا پھل لگے توپھر یہی سالانہ آمدن چوبیس ہزار سے بڑھ کر چالیس ہزار دینار تک جا پہنچتی تھی۔
دینار کی موجودہ زمانے میں قیمت
معزز قارئین، یاد رہے کہ دینار سونے کا سکہ ہوا کرتا تھا جو اس وقت لین دین اور خریدوفروخت کے لیے استعمال ہوتا تھا۔ ایک دینار کے سکے میں سونے کی مقدار ایک مثقال ہوتی تھی۔ جب کہ ایک تولہ سونے میں اڑھائی مثقال سونا ہوتا ہے۔ اس حساب سے چالیس ہزار دینار سولہ ہزار تولے کے برابر ہوتے ہیں۔
ایک دینار = ایک مثقال سونا
چالیس ہزار دینار = چالیس ہزار مثقال سونا
ایک تولہ سونا = اڑھائی مثقال سونا
چالیس ہزار مثقال / اڑھائی = سولہ ہزار تولہ
اگر آج کے دور کی حاضر قیمت سونا دیکھا جائے تو اس کی قیمت فی تولہ 422000 ہے۔ اس حساب سے سولہ ہزار تولہ سونے کی قیمت 6 ارب 75 کروڑ روپے بنتی ہے۔
یہ وہ آمدن تھی جو جاگیر فدک سے سالانہ کی بنیاد پر حاصل ہوتی تھی جسے برادران اہل سنت چند درخت کہہ کر پردہ پوشی کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
خدا ہم سب کو تعلیمات اہلبیتؑ پڑھنے، سمجھنے، ان پر عمل کرنے اور پھر اس عمل کو اپنی آخرت تک کے لیے محفوظ رکھنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین!
ہم معزز قارئین کی جانب سے مثبت رد عمل کے منتظر ہیں نیز آپ سب کے تعاون کی توقع کرتے ہیں کہ علوم آل محمدؑ کی ترویج میں ہمارے معاون ثابت ہوں اور اس معلومات کو اپنے دوست احباب اور عوام الناس تک پہنچائیں۔ نیز ہماری اصلاح کے لیے کوئی مشورہ یا رائے دینا چاہیں تو تبصرے کے خانے میں ہمیں مطلع فرمائیں۔ آپ کی قیمتی رائے کا احترام کیا جائے گا۔ جزاکم اللہ خیرا
