رسول اکرمﷺ کی لحت جگر حضرت فاطمہؑ کی زندگی کا جو باب ان کے پدر بزرگوار کی رحلت کے بعد گزرا وہ انتہائی دردناک اور کربناک ہے۔
حضرت سیدہ سلام اللہ علیہا کی وصیت کی تحریر ان مصائب کے مجموعے کا خلاصہ ہے۔
رسول اکرمﷺ کی رحلت کے بعد حضرت سیدہ سلام اللہ علیہا پر اتنے مصائب آئے کہ بی بیؑ ہر وقت نوحہ و گریہ زاری کرتی رہتیں اور تاریخ کے صفحات پر بی بیؑ کا یہ نوحہ رقم ہے جو مصائب کا پہاڑ ہے۔
سیدہ عالمؑ کا نوحہ
بی بیؑ گریہ و زاری کرتے ہوئے کہتیں، ‘صبت علی مصائب لو انہا، صبت الایام صرن لیا لیا’ ترجمہ: ‘بابا جان، آپ کےبعد جو مصائب مجھ پر آئے اگر وہ دنوں پر آتے تو وہ رات کی تاریکی میں بدل جاتے۔’
بعد از رسول اکرمﷺ بی بی کے ایام زندگی
انہیں مصائب میں بی بیؑ ایک روایت کے مطابق پچھتر یا بروایت دیگر پچانوے دن بابا کے بعد زندہ رہیں اور پھر جہانی فانی سے کوچ کر گئیں۔
بنت پیغمبرؑ کی امیر المومنینؑ سے گفتگو
حضرت سیدہ سلام اللہ علیہا کی وصیت انہی مصائب کی تحریری شکل ہے۔جب مخدومہ عالمؑ کا وقت شہادت قریب آیا تو گھریلو امور سے فارغ ہو کر بستر پر تشریف ہو گئیں۔
پھر امیر المومنینؑ سے فرمانے لگیں،’ اے میرے چچا کے عظیم فرزند، میں آج اس زندگی سے کوچ کرنے والی ہوں!
‘میں لمحہ بہ لمحہ اپنی منزل کے قریب ہو رہی ہوں اور اب میں عنقریب اپنے پدر بزرگوار سے ملاقات کرنے والی ہوں۔ میں آپ کو وصیت کرنے والی ہوں جس کی تعمیل آپ کا ذمہ آپ کا ہے۔’
اس وقت جناب امیرؑ نے حجرے میں موجود دیگر افراد کو باہر بھیج دیا اور خود حضرت سیدہ سلام اللہ علیہا کے سرہانے تشریف فرما ہو گئے۔ بی بیؑ یوں گویا ہوئیں،
‘اے میرے چچا کے گراں قدر فرزند، آپ نے مجھے اپنی تمام زندگی میں راست گو، پسندیدہ کردار اور امانت دار پایا ہے۔ آپؑ نے مجھے اس پسندیدہ روش سے کبھی دور نہیں دیکھا ہے۔ کیا ایسی ہی بات ہے؟’
امیر المومنینؑ کا جواب
امیر المومنینؑ نے فرمایا، ‘خدا کی پناہ، مجھے خدا کی قسم، آپ ؑ رسول اکرمﷺ کی لحت جگر ہیں۔
‘آپ نیکیوں اور امور حسنہ میں سب سے بڑھ کر ہیں۔ تقویٰ اور اخلاص میں آپ کا کوئی ثانی نہیں۔ آپ سب سے ذیادہ محترم اور مکرم ہیں۔
‘خدا خوفی میں اعلیٰ و ارفع مقام کی حامل ہیں۔ فاطمہؑ جان، آپ کی جدائی مجھ پر گراں ہے لیکن یہ قانون آفرینش ہے اس سے گریز نہیں ہے۔’
حضرت فاطمہؑ کی پہلی وصیت
سیدہ عالمؑ نے فرمایا، ‘اللہ تعالیٰ آپ کو اجر عظیم عطا فرمائے۔ اے میرے چچا کے بیٹے، میری پہلی وصیت یہ ہے کہ آپ میرے بعد امامہ سے عقد کرنا۔
‘اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ میری اولاد پر اسی طرح مہربان ہے جس طرح میں خود اپنی اولاد کے لیے مہربان ہوں۔ اور اس لیے بھی کہ مردوں کو ہر صورت میں عورتوں کی ضرورت رہتی ہے۔’
دوسری وصیت
اس کے بعد حضرت سیدہ سلام اللہ علیہا نے فرمایا، ‘وہ لوگ کہ جنھوں نے مجھ پر ظلم کیے ہیں انہیں میرے جنازے پر نہ لانا وہ میرے اور رسول اللہﷺ کے دشمن ہیں۔’
تیسری وصیت
سیدہ عالم حضرت سیدہ سلام اللہ علیہا نے تیسری وصیت کرتے ہوئے فرمایا، ‘یا علیؑ، جب لوگ رات میں سو جائیں اس وقت رات کی تاریکی میں مجھے دفن کرنا۔’
چوتھی وصیت
بی بیؑ نے چوتھی وصیت کی، ‘یا علیؑ، جب میری روح پرواز کر جائے تو مجھے میرے پیراہن کے اندر سے ہی غسل دینا کیوں کہ میرا بدن پاک و پاکیزہ ہے۔’
حضرت فاطمہؑ کی پانچویں وصیت
بی بیؑ نے فرمایا، ‘یا علیؑ، مجھے رسول اکرمﷺ کے باقی ماندہ کافور سے حنوط کرنا۔’
حضرت فاطمہؑ کی چھٹی وصیت
فرمایا، ‘یا علیؑ، میں جانتی ہوں میرے بعد آپ نے کسی خاتون سے عقد کرنا ہو گا۔ اگر کسی خاتون سے عقد کریں تو ایک رات اور دن اس کے ساتھ رہنا اور دوسرا دن اور رات میری اولاد کے ساتھ گزارنا۔’
خدا ہم سب کو تعلیمات اہلبیتؑ پڑھنے، سمجھنے، ان پر عمل کرنے اور پھر اس عمل کو اپنی آخرت تک کے لیے محفوظ رکھنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین!
ہم معزز قارئین کی جانب سے مثبت رد عمل کے منتظر ہیں نیز آپ سب کے تعاون کی توقع کرتے ہیں کہ علوم آل محمدؑ کی ترویج میں ہمارے معاون ثابت ہوں اور اس معلومات کو اپنے دوست احباب اور عوام الناس تک پہنچائیں۔ نیز ہماری اصلاح کے لیے کوئی مشورہ یا رائے دینا چاہیں تو تبصرے کے خانے میں ہمیں مطلع فرمائیں۔ آپ کی قیمتی رائے کا احترام کیا جائے گا۔ جزاکم اللہ خیرا
