درختوں پر پھل لگنے اور نہ لگنے، کانٹے ہونے یا نہ ہونے کی علت

پھل دار درخت

کچھ درختوں پر پھل اور کانٹے لگتے ہیں اور کچھ پر نہیں!

دنیا ہزاروں بلکہ لاکھوں اقسام کے نباتات سے بھری پڑی ہوئی ہے۔ ہم دیکھتے ہیں کہ ہمارے ارد گرد کرہ ارض پر اتنے بے شمار پورے، درخت اور نباتاتی زندگی پائی جاتی ہے کہ جو آج تک شاید سائنس دانوں اور نباتات کے ماہرین کے علم  اور شمار میں بھی نہیں آ سکیں۔

درختوں کی لاکھوں اقسام اور پھر ان کی بے شمار خصوصیات ہیں۔ بہت سے درختوں کو ہم  دیکھتے ہیں کہ ان  پر  انواع و اقسام کے  پھل لگتے ہیں اور بے شمار درخت  ایسے بھی ہوتے ہیں کہ جن پھر پھل نام کی کوئی چیز نہیں ہوتی۔

اسی طرح بے شمار درخت اور پودے ایسے بھی پائے جاتے ہیں کہ جن پر کانٹے لگتے ہیں اور کئی ایک تو ہاتھوں کو زخمی تک کر دیتے ہیں۔ اور پھر کئی ایک بلکہ لاکھوں پودے ایسی اقسام کے بھی ہوتے ہیں جن پر کانٹے نام کی کوئی چیز نہیں ہوتی۔

آیئے دیکھتے ہیں کہ تعلیمات آل محمدؑ اس متعلق کیا کہتی ہیں اور کیا وجہ بتاتی ہیں کہ کچھ درخت پھل دار ہیں تو کچھ نہیں، کچھ پر  کانٹے لگے ہیں اور کچھ پر نہیں۔

فقیہ آل محمدؑ جناب علامہ شیخ صدوق اپنی مشہور و معروف کتاب علل الشرائع میں لکھتے ہیں، سفیان بن عینیہ سے مروی ہے کہ، انہوں نے حضرت امام صادقؑ سے نقل کیا ہے  کہ انہوں نے فرمایا کہ پہلے پہل اللہ تعالیٰ نے سب درختوں کو پھل دار بنایا تھا اور اس کا پھل کھایا جاتا تھا۔ لیکن اس کے بعد جب لوگوں نے یہ کہا کہ خدا کا بیٹا بھی ہے تو ان کے یہ کہنے سے آدھے درختوں سے پھل ختم ہو گئے۔ پھر اس کے بعد مزید جب انہوں نے  مزید سرکشی دکھائی اور خدا کے ساتھ اوروں کو شریک کرنا  شروع کر دیا  تو پھر درختوں پر کانٹے بھی لگنے لگ گئے۔

اسی طرح کی ایک حدیث شیخ صدوق نے امیر المومنینؑ سے بھی نقل کی ہے کہ مولاؑ فرماتے ہیں کہ رسول خدا ﷺ سے سوال کیا گیا، ‘یا رسول اللہﷺ کیا وجہ ہے کہ بعض درختوں پر پھل لگتے ہیں اور بعض پر نہیں؟’

تو رحمت دو عالم ﷺ نے فرمایا، ‘جیسے جیسے حضرت آدمؑ نے خدا کی تسبیح کی ان کے لیے دنیا میں ایک پھل دار درخت بنتا گیا۔ اور اسی طرح جیسے جیسے حضرت حواؑ نے خدا تعالیٰ کی تسبیح کی تو ان کے لیے بغیر پھل کے درخت پیدا ہوتے گئے۔

خدا ہم سب کو تعلیمات اہلبیتؑ پڑھنے، سمجھنے، ان پر عمل کرنے اور پھر اس عمل کو اپنی  آخرت تک کے لیے محفوظ رکھنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین!

ہم معزز قارئین کی جانب سے مثبت رد عمل کے منتظر ہیں نیز آپ سب کے تعاون کی توقع کرتے ہیں کہ علوم آل محمدؑ کی ترویج میں ہمارے معاون ثابت ہوں اور اس معلومات کو اپنے دوست احباب اور عوام الناس تک پہنچائیں۔ نیز ہماری اصلاح کے لیے کوئی مشورہ یا رائے دینا چاہیں تو تبصرے کے خانے میں ہمیں مطلع فرمائیں۔ آپ کی قیمتی رائے کا احترام کیا جائے گا۔ جزاکم اللہ خیرا

یہ بلاگ سید حسن مجتبیٰ کی تحریر ہے — ایک طالب علمِ دین، اردو و اسلامی ادب کے شیدائی، اور “علی والے” ویب سائٹ کے بانی۔

تبصرہ کریں

#Leave A Comment

1263105

نیوز لیٹر سبسکرائب کریں

اپنے ای میل کے ذریعے ہر نئے بلاگ کی اطلاع حاصل کریں۔

 
 


    “علی والے ایک اردو بلاگ ہے جہاں سید  حسن مجتبیٰ، تاریخ کے ایک طالب علم، اپنے خیالات اور عشقِ علی کے جذبے کو دنیا تک پہنچاتے ہیں۔ یہ ایک آزاد پلیٹ فارم ہے محبتِ اہل بیتؑ کے اظہار کے لیے۔”

    ہم سے رابطہ کریں #

    Select the fields to be shown. Others will be hidden. Drag and drop to rearrange the order.
    • Image
    • SKU
    • Rating
    • Price
    • Stock
    • Availability
    • Add to cart
    • Description
    • Content
    • Weight
    • Dimensions
    • Additional information
    Click outside to hide the comparison bar
    Compare