اصحاب الرقیم کون تھے؟ وہ تین لوگ جو غار میں پھنس گئے

اصحاب الرقیم

دعا کتنا بڑا اثر رکھتی ہے، اس بات کا اندازہ درج ذیل واقعہ پڑھ کر کیا جا سکتا ہے۔

شیخ صدوق اپنی مشہور و معروف کتاب الخصال میں روایت کرتے ہیں کہ رسول اکرمﷺ نے فرمایا، ‘اصحاب الرقیم تین ہیں جو کہیں جا رہے تھے کہ اسی اثناء میں راستے میں بارش ہونے لگی۔

 بارش سے بچنے کے لیے یہ تینوں آدمی پہاڑ میں موجود ایک غار میں چلے گئے۔ اتفاقاً  پہاڑ سے ایک بہت بڑا پتھر ٹوٹ کر غار کے منہ پر آ گرا اور باہر نکلنے کا راستہ بند ہو گیا۔ اب یہ تینوں آدمی بہت پریشان ہوئے۔

اسی حالت میں یہ تینوں زندگی سے نا امید ہو گئے۔ انہوں نے آپس میں مشورہ کیا کہ مناسب ہے کہ ہر شخص اپنے کسی نیک عمل کا واسطہ دے کر خدا سے دعا مانگے  کہ پتھر غار کے منہ سے ہٹ جائے۔

پہلے شخص کی دعا

پہلے شخص  نے دست دعا بلند کیا اور دعا کرتے ہوئے کہا  کہ میں نے ایک پیمانے دھان پر ایک مزدور کسی کام کے لیے بلایا تھا۔

جب وہ کام ختم کر کے مزدوری لینے آیا تو میں نے اسے ایک پیمانہ چاول دیے  مگر اس نے نہ لیے اور ناراض ہو کر چلا گیا۔

میں نے اس سے زراعت کی اور اس سے جو کچھ پیدا ہوا اس سے ایک گائے خریدی۔ اس گائے کے بچے ہوئے اور رفتہ رفتہ ایک گلہ ہو گیا۔

عرصہ کے بعد وہ مزدور پھر آیا اور اپنی مزدوری مانگی۔ میں نے کہا کہ یہ گائے کا گلہ تیرا ہے، اس کو لے جا۔اسے تعجب ہوا۔

میں نے کہا  کہ یہ اسی مزدوری کی آمدنی سے ہے۔ وہ گلہ ہنکا کر لے گیا۔ خداوندا اگر یہ کام میں نے تیری رضا کے لیے  کیا ہو  تو یہ پتھر اپنی جگہ سے ہٹ جائے۔

جیسے ہی اس شخص نے یہ دعا مکمل کی، پتھر اپنی جگہ سے تھوڑا سا ہٹ گیا۔

دوسرے شخص کی دعا

اس کے بعد دوسرے شخص نے دست دعا بلند کیے اور کہا، ‘یا خدا، تو تو جانتا ہے کہ میرے ماں اور باپ بوڑھے  تھے اور میرے پاس گوسفند تھے۔ میں ان کا دودھ دھو کر اپنے بوڑھے ماں اور باپ کو پلایا کرتا تھا۔

ایک دن مجھے واپسی پر تاخیر ہو گئی۔ دونوں آرام کر رہے تھے ۔ میں دودھ لیے ہوئے صبح تک ان کے بیدار ہونے کا انتظار کرتا رہا۔

یا خدا، اگر یہ میرا فعل تیری رضا کے لیے تھا تو یہ پتھر اپنی جگہ سے ہٹ جائے۔

جیسے ہی اس شخص نے یہ دعا مکمل کی، پتھر اپنی جگہ سے تھوڑا سا ہٹ گیا۔

تیسرے شخص کی دعا

جب پہلے دو لوگوں نے اپنی اپنی دعا مانگ لی اور ان کی دعا مستجاب ہونے کی صورت میں پتھر کافی سارا  اپنی جگہ سے ہٹ بھی گیا تو تیسرے شخص نے دست دعا بلند کیے۔

اس نے کہا، ‘یا خدا، تو تو جانتا ہے کہ میری ایک چچا زاد بہن تھی جسے میں بہت ذیادہ دوست رکھتا تھا۔

میں نے اس سے اپنی آرزو بیان کی۔ اس نے سو اشرفی طلب کی۔

لیکن میں بمشکل سو اشرفی ہی فراہم کر پایا جو کہ لے کر اس کے پاس گیا۔

پہلے تو وہ اس پر راضی ہو گئی لیکن پھر کہنے لگی  کہ کیوں بغیر نکاح کیے فعل حرام کا مرتکب ہوتا ہے۔

میں نادم اور شرمندہ ہوا۔ سو اشرفی بھی  اس کو دے دیں اور واپس چلا آیا۔

یا خدا، اگر میرا یہ فعل تیری رضا کے لیے تھا تو  یہ پتھر اپنی جگہ سے ہٹ جائے۔

جیسے ہی اس شخص نے یہ دعا مکمل کی، پتھر اپنی جگہ سے مکمل  ہٹ گیا اور سارا راستہ کھل گیا جس پر یہ تینوں شخص غار سے باہر آ گئے۔

خدا ہم سب کو تعلیمات اہلبیتؑ پڑھنے، سمجھنے، ان پر عمل کرنے اور پھر اس عمل کو اپنی  آخرت تک کے لیے محفوظ رکھنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین!

ہم معزز قارئین کی جانب سے مثبت رد عمل کے منتظر ہیں نیز آپ سب کے تعاون کی توقع کرتے ہیں کہ علوم آل محمدؑ کی ترویج میں ہمارے معاون ثابت ہوں اور اس معلومات کو اپنے دوست احباب اور عوام الناس تک پہنچائیں۔ نیز ہماری اصلاح کے لیے کوئی مشورہ یا رائے دینا چاہیں تو تبصرے کے خانے میں ہمیں مطلع فرمائیں۔ آپ کی قیمتی رائے کا احترام کیا جائے گا۔ جزاکم اللہ خیرا

یہ بلاگ سید حسن مجتبیٰ کی تحریر ہے — ایک طالب علمِ دین، اردو و اسلامی ادب کے شیدائی، اور “علی والے” ویب سائٹ کے بانی۔

تبصرہ کریں

#Leave A Comment

1263105

نیوز لیٹر سبسکرائب کریں

اپنے ای میل کے ذریعے ہر نئے بلاگ کی اطلاع حاصل کریں۔

 
 


    “علی والے ایک اردو بلاگ ہے جہاں سید  حسن مجتبیٰ، تاریخ کے ایک طالب علم، اپنے خیالات اور عشقِ علی کے جذبے کو دنیا تک پہنچاتے ہیں۔ یہ ایک آزاد پلیٹ فارم ہے محبتِ اہل بیتؑ کے اظہار کے لیے۔”

    ہم سے رابطہ کریں #

    Select the fields to be shown. Others will be hidden. Drag and drop to rearrange the order.
    • Image
    • SKU
    • Rating
    • Price
    • Stock
    • Availability
    • Add to cart
    • Description
    • Content
    • Weight
    • Dimensions
    • Additional information
    Click outside to hide the comparison bar
    Compare