جہنمی علماء کی سات اقسام

علماء

علماء وارث انبیاء

حدیث  رسول ﷺ ہے کہ علماء وارث انبیاء ہیں۔ یہ عظیم الشان فضیلت اور مقام و مرتبہ علماء کو اس لیے دیا گیا ہے کہ وہ بھی انبیاء کی مثل  امر بالمعروف و نہی عن المنکر کا فریضہ سرانجام دیتے ہیں، دین خدا کا حلال و حرام عوام الناس تک پہنچاتے ہیں اور لوگوں کی راہنمائی کر کے انہیں عذاب آخرت سے بچانے کا سبب بنتے ہیں۔

لیکن یہ تمام فضائل و مراتب ان علماء کے لیے ہیں جو اپنا کام خوش اسلوبی سے سرانجام دیتے ہیں۔ اور دین خدا کی نشر و اشاعت میں کسی قسم کا خوف نہیں رکھتے اور نہ ہی کسی سے ڈرتے ہیں۔ نہ تو انہیں دنیا کی چکاچوند اپنی جانب راغب کر پاتی ہے اور نہ ان کے دلوں میں کوئی دنیا پرستی کا شائبہ تک پایا جاتا ہے۔

اس کے برعکس جو علماء اپنی ذمہ داری ادا  نہ کریں اور دنیا پرستی میں پڑ جائیں تو ان کے لیے سخت عذاب کی وعید ہے۔ انہی قسم کے علماء کی تفصیل بتاتے  ہوئے امام جعفر صادقؑ نے سات قسام بیان کی ہیں  جو کہ جہنمی علماء ہیں۔

جہنمی علماء کی سات اقسام

شیخ صدوق اپنی  مشہور و معروف کتاب الخصال میں امام جعفر صادقؑ سے  ایک حدیث نقل کرتے ہیں۔ امام جعفر صادقؑ فرماتے ہیں، ‘ علماء کے سات گروہ جہنمی ہیں۔’

پہلی قسم

ان جہنمی علماء کی فہرست میں پہلا گروہ وہ ہے جو کسی کو اپنے علم سے فیض نہیں پہنچاتے۔  یہ علماء جہنم کے پہلے طبقے میں ہیں۔

یاد رہے کہ یہاں ضروری نہیں کہ یہ علماء فقط دین و شریعت یا فقہ کے عالم ہی ہوں۔ اس حدیث کے مصداق میں وہ دنیاوی علوم کے علماء و اساتذہ بھی موجود ہیں جو حسد کی وجہ سے کسی کو کچھ نہیں سکھاتے۔

تو  اگر کوئی ایسا استاد ہو جو سکول / کالج / یونیورسٹی میں  اپنے فرائض صحیح طور پر انجام نہیں دیتا صرف اس لیے کہ اسے اس چیز سے حسد ہے کہ کوئی بچہ پڑھ کر اس سے آگے نہ نکل جائے تو وہ استاد بھی اسی جہنمی گروہ کا حصہ ہے۔

دوسری قسم

علماء کی دوسری قسم جو جہنم میں جائے گی  اس میں وہ علماء شامل ہیں جو کسی  دوسرے کو جب نصیحت کرتے ہیں تو سختی کا سا انداز اپناتے ہیں لیکن جب کوئی دوسرا انہیں ان کی کسی غلطی پر ٹوکتا ہے تو وہ برا مان جاتے ہیں۔

یعنی جب وعظ و نصیحت کی بات آئے گی تو  بالکل سخت رویہ ہو گا اور خود کی غلطی پر  کسی کی جانب سے یہ تنقید برداشت نہیں کرتے۔  حالاں کہ علماء بھی انسان ہیں اور انسان خطاؤں کا پتلا ہے۔ اور  معصوم عن الخطاء بھی نہیں ہیں۔

اس لیے  عین ممکن ہے کہ عالم سے بھی کوئی غلطی سرزد ہو جائے۔ اور اگر ہو جائے تو انہیں بھی تنقید برداشت کرنا چاہیے۔ نہ کہ برا مانیں۔ ایسا کرنے والے علماء جہنمی ہیں اور جہنم کے دوسرے طبقے میں ہوں گے۔

تیسری قسم

علماء کی تیسری قسم جو جہنم میں جائے گی اس میں وہ علماء شامل ہیں  جو  اپنے علم سے فائدہ صرف امیر  اور دولت مند لوگوں کو پہنچاتے ہیں، غریب کو اس قابل نہیں سمجھتے کہ اسے بھی علمی فائدہ پہنچایا جائے۔

اور ایسا یہ لوگ اس لیے کرتے ہیں کیوں کہ ان کے دلوں میں دنیا کے مال اور پیسے کی محبت ہے۔ جب کہ  فرمان معصومؑ ہے کہ امیر کی تولت کی وجہ سے اس  کی خوشامد کرنے والے اور کتے میں  کوئی فرق نہیں۔

اور ایسے علماء سے رجوع کرنے سے بھی سختی سے منع کیا گیا اس لیے کہ جس عالم کے دل میں دنیا کے مال کی محبت ہے وہ گمراہ ہونے اور گمراہ کرنے میں ایک لمحہ نہ لگائے گا۔

ایسے علماء جہنم کے تیسرے طبقے میں ہوں گے۔

چوتھی قسم

علماء کی چوتھی قسم جو جہنم میں جائے گی اس میں وہ علماء شامل ہیں جو شاہانہ مزاج رکھتے ہیں، اگر ان کی کسی بات پر کوئی  اعتراض کیا جائے یا ان کی خدمت میں کوئی کمی کوتاہی رہ جائے  تو برہم ہو جاتے ہیں اور غصہ کرنے لگ جاتے ہیں۔

حالاں کہ  علماء کو اہلبیت علیہم السلام  کی سیرت پر سب سے ذیادہ عمل  کرنا چاہیے۔ امام علیؑ تو پیکر عاجزی تھے۔  مگر  وہ علماء جو عاجزی نہیں اپناتے اور خود کو لوگوں سے بہتر و بلند سمجھتے ہیں یہ خود جہنم کے راستے پر گامزن ہیں۔

ایسا کرنے والے علماء جہنم کے چوتھے طبقے میں ہوں گے۔

پانچویں قسم

علماء کی پانچویں قسم جو جہنم میں جائے گی اس میں وہ علماء شامل ہیں  جو یہود و نصاریٰ کی احادیث کو حاصل کر کے ان سے تقویت حاصل کرتے ہیں۔

ایسا کرنے والے علماء جہنم کے پانچویں طبقے میں ہوں گے۔

چھٹی قسم

علماء کی چھٹی قسم جو جہنم میں جائے گی اس میں وہ علماء شامل ہیں جو چاہتے ہیں کہ ساری دنیا ان کی تقلید کرے حالاں کہ وہ کچھ بھی جانتے نہیں ہیں۔

یہ علماء اس لیے ایسا کرتے ہیں  کیوں کہ ان میں حب ذات ہے۔  یہ اپنی ذات کی محبت میں ڈوبے ہوتے ہیں اور اپنی انا کی تسکین کے لیے چاہتے ہیں کہ ہر کوئی ان کے پیچھے چلے۔

لیکن حقیقت میں وہ جانتے کچھ بھی نہیں ہوتے۔

ایسا کرنے والے علماء جہنم کے چھٹے طبقے میں ہوں  گے۔

ساتویں قسم

علماء کی ساتویں قسم جو جہنم میں جائے گی اس میں وہ علماء شامل ہیں جو اپنے علم کو وسیلہ نمائش، مردانگی و خردمندی قرار دیتے ہیں۔

یعنی اپنے علم کو اپنی مشہوری اور نمائش  کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ ان  کا مقصد  اپنے علم کو پھیلا کر لوگوں کی اصلاح نہیں ہوتا بلکہ اپنی نمودو نمائش ہوتا ہے۔

ایسا کرنے والے علماء جہنم کے ساتویں طبقے میں ہوں گے۔

خدا تعالیٰ ہم سب کو ایسی لعنتوں سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے، بحق محمد و آل محمد علیہم السلام۔

خدا ہم سب کو تعلیمات اہلبیتؑ پڑھنے، سمجھنے، ان پر عمل کرنے اور پھر اس عمل کو اپنی  آخرت تک کے لیے محفوظ رکھنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین!

ہم معزز قارئین کی جانب سے مثبت رد عمل کے منتظر ہیں نیز آپ سب کے تعاون کی توقع کرتے ہیں کہ علوم آل محمدؑ کی ترویج میں ہمارے معاون ثابت ہوں اور اس معلومات کو اپنے دوست احباب اور عوام الناس تک پہنچائیں۔ نیز ہماری اصلاح کے لیے کوئی مشورہ یا رائے دینا چاہیں تو تبصرے کے خانے میں ہمیں مطلع فرمائیں۔ آپ کی قیمتی رائے کا احترام کیا جائے گا۔ جزاکم اللہ خیرا

یہ بلاگ سید حسن مجتبیٰ کی تحریر ہے — ایک طالب علمِ دین، اردو و اسلامی ادب کے شیدائی، اور “علی والے” ویب سائٹ کے بانی۔

تبصرہ کریں

#Leave A Comment

1263105

نیوز لیٹر سبسکرائب کریں

اپنے ای میل کے ذریعے ہر نئے بلاگ کی اطلاع حاصل کریں۔

 
 


    “علی والے ایک اردو بلاگ ہے جہاں سید  حسن مجتبیٰ، تاریخ کے ایک طالب علم، اپنے خیالات اور عشقِ علی کے جذبے کو دنیا تک پہنچاتے ہیں۔ یہ ایک آزاد پلیٹ فارم ہے محبتِ اہل بیتؑ کے اظہار کے لیے۔”

    ہم سے رابطہ کریں #

    Select the fields to be shown. Others will be hidden. Drag and drop to rearrange the order.
    • Image
    • SKU
    • Rating
    • Price
    • Stock
    • Availability
    • Add to cart
    • Description
    • Content
    • Weight
    • Dimensions
    • Additional information
    Click outside to hide the comparison bar
    Compare