صلہ رحمی، موت کی سختی کو آسانی میں بدلنے والا عمل

صلہ رحمی - موت کی سختی کو آسانی میں بدلنے والا عمل

 

اس میں شک نہیں کہ موت ایک حقیقت ہے جس سے کوئی بھی  شخص انکار نہیں  کر سکتا چاہے وہ ملحد ہی کیوں نہ ہو۔  اور موت ایک سخت مرحلہ ہے کہ جس  کی سختی سے متعلق قرآن اور  فرامین اہلبیتؑ میں متعدد روایات وارد ہوئی ہیں۔  لیکن ہمارے آئمہ اہلبیت علیہم السلام نے کئی ایک ایسے اعمال تعلیم کیے ہیں کہ جن کی انجام دہی سے انسان اپنے لیے موت کی سختی کو آسانی میں بدل سکتا ہے۔  اور انہی اعمال میں سے ایک ہے صلہ رحمی!!!!

صلہ رحمی یعنی کہ رشتہ داروں کے ساتھ  تعلق جوڑنا اور استوار کرنا۔  یہ ایسا  باعث اجر و ثواب عمل ہے کہ جو انسان کی موت کی سختی کو آسانی میں بدل دیتا ہے۔ حضرت موسیٰؑ نے اللہ سے پوچھا کہ یا خدا جو لوگ صلہ رحمی کرتے ہیں یعنی کہ رشتہ داروں کے ساتھ تعلق جوڑ کر رکھتے ہیں اور اسے توڑتے نہیں تو انہیں کیا اجر دیتا ہے؟ تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا ، ‘اے موسیٰؑ، میں ان کی عمر کو دراز کر دیتا ہوں اور ان کے لیے موت کی سختی کو آسانی میں  بدل دیتا ہوں’ (میزان الحکمت، جلد 04، صفحہ 170)۔

مندرجہ بالا سے معلوم ہوا کہ صلہ رحمی کے بدلے میں انسان  کی زندگی بڑھ جاتی ہے اور ساتھ ہی ساتھ موت کی سختی کو بھی آسانی میں بدل دیا جاتا ہے۔آج مغرب کی تہذیب کی ہماری ثقافت میں یلغار  سے اور مادہ پرستی جیسی لعنت کو عروج حاصل ہونے کے بعد قطع رحمی کو ایک اچھی چیز سمجھا جاتا ہے اور  لوگ فخر سے  کہتے ہیں کہ ان کا اپنے رشتہ داروں کے ساتھ کوئی تعلق نہیں اور ان کا آپس میں کوئی آنا جانا نہیں ہے۔ جب کہ امیر المومنینؑ کا فرمان کچھ اور درس دیتا ہے۔ صلہ رحمی سے متعلق امیر المومنین امام علیؑ تاکید کرتے ہوئے فرماتے ہیں،’اپنے قبیلہ کی عزت کرو کیوں کہ وہ لوگ تمہارے وہ پر ہیں جن کے ذریعہ سے تم پرواز کرتے ہو، تمہاری وہ اصل ہیں جن کی جانب  تمہاری باز گشت ہوتی ہے اور تمہارے وہ ہاتھ ہیں جن کے ذریعہ سے تم حملہ آور ہوتے ہو۔'(میزان الحکمت، جلد 04 صفحہ 168)۔

صلہ رحمی فقط تاکیدی عمل نہیں ہے بلکہ یہ ایسا اہم اور باعث اجر و ثواب عمل ہے کہ رسول اللہﷺ نے اسے دین کا حصہ قرار دیا ہے۔ صلہ رحمی کی اہمیت بیان کرتے ہوئے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں، ‘میں اپنی امت کے موجود اور غیر حاضر لوگوں کو اور ان کو جو قیامت تک مردوں کے صلب اور عورتوں کے رحم میں ہیں وصیت کرتا ہوں کہ وہ صلہ رحمی کریں خواہ وہ سال بھر کے سفر کے فاصلے پر ہوں کیوں کہ یہ بات دین کا حصہ ہے! (میزان الحکمت، جلد 04 صفحہ 175)۔

مندرجہ بالا حدیث سے یہ بات بھی واضح ہو گئی کہ انسان کو کس قدر ذیادہ سفر طے کر کے رشتہ دار سے ملنے اور صلہ رحمی کا حق ادا کرنے کی تاکید کی گئی ہے۔ اور پھر فرمان بھی رسول اللہﷺ کا اور اس دور میں کہ جب سفر کرنا کتنا دشوار ہوا کرتا تھا۔ آج کے دور کی جدید سہولیات بھی نہیں تھیں لیکن اس کے باوجود رسول اللہﷺ نے ان حالات میں بھی ایک سال  کی مسافت طے کرنے کا کہہ کر صلہ رحمی کے اجر و ثواب اور اس کی اہمیت کو اجاگر کیا ہے۔

پھر  متعدد ایسی روایات وارد ہوئی ہیں کہ جن سے یہ مستفاد ہوتا ہے کہ انسان کا رشتہ دار چاہے اس سے تعلق توڑتا ہی کیوں نہ ہو انسان کے لیے لازم ہے کہ اس کے ساتھ تعلق قائم رکھنے کی حتیٰ الامکان کوشش کرے۔ آج انسان  حب ذات  جیسی غلاظت کا شکار ہو چکا ہے جس کے سبب انسان بعض اوقات اپنی انا کی رو میں بہہ کر یہ کہنے لگتا ہے کہ اگر رشتہ دار مجھ سے تعلق نہیں رکھتا، وہ مجھ سے ٹیلی فون کر کے حال احوال معلوم نہیں کرتا ، میرے ہاں آتا جاتا نہیں ہے تو میں اس سے تعلق کیوں رکھوں!! میں اسے ٹیلیفون کیوں کروں؟ میں اس کے ہاں کیوں جاؤں؟

محترم قارئین یہ سب انسان کی  انا کی باتیں ہیں جو انسان کو  بعض اوقات تکبر میں مبتلا کر دیتی  ہیں۔ اس متعلق روایات میں ملتا ہے کہ  ایک شخص حضرت امام جعفر صادقؑ کی خدمت اقدس میں حاضر ہوا  اور کہنے لگا، ‘مولاؑ، میں اپنے  ایک چچا زاد بھائی  سے صلہ رحمی کرتا ہوں لیکن وہ  مجھ سے قطع تعلق کرتا ہے تو کیا اب آپ مجھے اجازت دیتے ہیں کہ میں بھی اس سے رشتہ توڑ لوں؟’۔’ اس شخص کا یہ کہنا تھا کہ  امام جعفر صادقؑ نے اسے مخاطب کر کے کہا، ‘اے بندہ خدا، اس نے  تو تم سے قطع تعلق کیا ہے لیکن اگر تم نے بھی  اس سے قطع تعلق کر لیا تو خدا تم دونوں سے قطع تعلق کر لے گا۔’ (میزان الحکمت، جلد 04 صفحہ 58)۔

اور پھر صلہ رحمی کی اہمیت و قدر  سمجھنے کے لیے سب سے اہم روایت کہ امام جعفر صادقؑ کی خدمت اقدس میں ایک شخص  حاضر ہوا اور عرض کرنے لگا، ‘مولاؑ، میرے کچھ ایسے رشتہ دار ہیں جو کہ ہمارے دین پر نہیں (یعنی مسلمان نہیں) تو کیا اب بھی ان کے حقوق میرے ذمہ ہیں؟’ اس شخص کے سوال کےجواب میں امامؑ نے فرمایا، ‘صلہ رحمی کا  حق ایسا ہے جسے کوئی چیز منقطع نہیں کر سکتی۔ اور اگر وہ تمہارے دین پر ہوں تو پھر ان کے دو حق بنتے ہیں، ایک رشتہ داری کا اور دوسرا اسلام کا!’ (میزان الحکمت، جلد 04 صفحہ 169)

خدا ہم سب کو تعلیمات اہلبیتؑ پڑھنے، سمجھنے، ان پر عمل کرنے اور پھر اس عمل کو اپنی  آخرت تک کے لیے محفوظ رکھنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین!

ہم معزز قارئین کی جانب سے مثبت رد عمل کے منتظر ہیں نیز آپ سب کے تعاون کی توقع کرتے ہیں کہ علوم آل محمدؑ کی ترویج میں ہمارے معاون ثابت ہوں اور اس معلومات کو اپنے دوست احباب اور عوام الناس تک پہنچائیں۔ نیز ہماری اصلاح کے لیے کوئی مشورہ یا رائے دینا چاہیں تو تبصرے کے خانے میں ہمیں مطلع فرمائیں۔ آپ کی قیمتی رائے کا احترام کیا جائے گا۔ جزاکم اللہ خیرا

یہ بلاگ سید حسن مجتبیٰ کی تحریر ہے — ایک طالب علمِ دین، اردو و اسلامی ادب کے شیدائی، اور “علی والے” ویب سائٹ کے بانی۔

تبصرہ کریں

#Leave A Comment

1263105

نیوز لیٹر سبسکرائب کریں

اپنے ای میل کے ذریعے ہر نئے بلاگ کی اطلاع حاصل کریں۔

 
 


    “علی والے ایک اردو بلاگ ہے جہاں سید  حسن مجتبیٰ، تاریخ کے ایک طالب علم، اپنے خیالات اور عشقِ علی کے جذبے کو دنیا تک پہنچاتے ہیں۔ یہ ایک آزاد پلیٹ فارم ہے محبتِ اہل بیتؑ کے اظہار کے لیے۔”

    ہم سے رابطہ کریں #

    Select the fields to be shown. Others will be hidden. Drag and drop to rearrange the order.
    • Image
    • SKU
    • Rating
    • Price
    • Stock
    • Availability
    • Add to cart
    • Description
    • Content
    • Weight
    • Dimensions
    • Additional information
    Click outside to hide the comparison bar
    Compare