یہ ہیں ڈاکٹر تیجانی سماوی۔۔۔ ملت تشیع کے ایک درخشاں ستارے ۔۔۔ ایسی نابغہ روزگار شخصیت کہ جن کی قلمی کاوشوں کے سبب لاکھوں لوگ حق کو پہچان گئے!
اوائل زندگی
اس نابغہ روزگار شخصیت ڈاکٹر تیجانی سماوی صاحب کا تعلق بنیادی طور پرافریقی ملک تیونس سے ہے جہاں وہ 2 فروری 1943 کو پیدا ہوئے۔ مسلک کے لحاظ سے ڈاکٹر تیجانی سماوی صاحب کا تعلق بنیادی طور پر فقہ مالکی سے تھا جو کہ تیونس کے تقریباً پچانوے فیصد آبادی کا مسلک تھا۔
ابتدائی مذاہب اور مکتبہ فکر
اوائل زندگی کے دوران ڈاکٹر تیجانی سماوی صاحب ایک وقت میں تصوف کی جانب بھی مائل رہے جب کہ دوسری جانب جب انہوں نے سعودی عرب کا دورہ کیا تو انہیں سلفی مکتبہ فکر میں کشش محسوس ہوئی جس کے بعد انہوں نے اپنے وطن تیونس واپس آ کر سلفی مذہب کی ترویج و اشاعت کرنا شروع کر دی۔
راہ حق کی جانب ہدایت کا سفر
ایک مرتبہ ڈاکٹر تیجانی سماوی مصر گئے۔ واپسی کا سفر بذریعہ بحری جہاز تھا۔ بحری جہاز میں ایک شخص سے ملاقات ہوئی جس کا نام ڈاکٹر منعم تھا۔ ڈاکٹر منعم کا تعلق عراق سے تھا اور وہ بغداد یونیورسٹی میں پروفیسر تھے۔ بات چیت کے دوران جب ڈاکٹر تیجانی سماوی کو معلوم ہوا کہ ڈاکٹر منعم شیعہ مسلک سے تعلق رکھتے ہیں تو کہنے لگے، ‘مجھے پہلے معلوم ہوتا کہ آپ شیعہ مسلک سے ہیں تو میں آپ سے بات بھی نہ کرتا!’
ڈاکٹر منعم اور ڈاکٹر تیجانی کا علمی مکالمہ
ڈاکٹر منعم کے وجہ پوچھنے پر معلوم ہوا کہ ڈاکٹر تیجانی سماوی بھی دشمن کے اس پروپیگنڈا مہم کا شکار ہیں جو دشمن چودہ سو سال سے تشیع کے خلاف کرتا چلا آیا ہے، وہی پروپیگنڈا جس کے نتیجے میں جب امیر المومنین امام علیؑ کو ضرب لگنے کی خبر شام پہنچی تو لوگ پوچھنے لگے، ‘کیا علیؑ مسجد جاتے تھے؟ کیا علیؑ نماز پڑھتے تھے؟’
پراپیگنڈا کی موجودہ صورتحال دیکھ کر ڈاکٹر منعم نے بھی اس چیز کو بھانپ لیا اور ڈاکٹر تیجانی سماوی کی باتوں کا جواب دینے لگے۔ جب کئی ایک پراپیگنڈا کی گئی جھوٹی باتوں کے چہرے سے نقاب اترا تو ڈاکٹر تیجانی سماوی کو تجسس ہوا۔
بعدازاں ڈاکٹر منعم نے ڈاکٹر تیجانی سماوی کی رغبت دیکھ کر انہیں اپنے ساتھ عراق چلنے اور ان کا مہمان بننے کی دعوت دی جسے ڈاکٹر تیجانی سماوی نے بخوشی قبول کر لیا۔ ڈاکٹر منعم ڈاکٹر تیجانی کو اپنے ساتھ عراق لے گئے اور انہیں اپنا مہمان بنایا جہاں انہوں نے مقامات مقدسہ کی زیارات کیں ۔
ڈاکٹر تیجانی کا دورہ عراق
سیرت اہلبیتؑ پر عمل کرتے ہوئے ڈاکٹر منعم ڈاکٹر تیجانی کو اپنے خرچ پر نجف اشرف لے گئے جہاں ڈاکٹر تیجانی ان کے مہمان بنے اور جہاں ان کی ملاقات اس وقت کے بزرگ علماء سے کروائی گئی ۔ ڈاکٹر تیجانی جوں جوں سوالات کر تے جا رہے ، جوابات پا کر وہ پہلے سے ذیادہ حیرت زدہ ہو جاتے۔ علماء نجف نے انہیں کتب کا ایک بڑا ذخیرہ تحفے میں دیا جسے پڑھ کر ڈاکٹر تیجانی سماوی نے تحقیق کی اور اس نتیجے پر پہنچے کہ اسلام کا اگر صحیح اور روشن چہرہ ہے تو وہ مذہب آل محمدؑ ہے۔
حق کے متلاشی کو خدا نے ہدایت دی اور ڈاکٹر تیجانی سماوی نے علیؑ ولی اللہ کا اقرار کر کے شیعہ مذہب اختیار کیا۔
ڈاکٹر تیجانی کی علمی کاوشیں
جناب ڈاکٹر تیجانی سماوی کا علمی سفر، تحقیق اور راہ ہدایت پر آنا صرف یہیں نہیں رک جاتا۔ ڈاکٹر تیجانی سماوی نے گہری تحقیق کے بعد وہ وہ شاہکار کتب تصنیف کیں کہ جن کی مثال نہیں ملتی اور ان کی ہر ایک قلمی کاوش اپنی نظیر آپ ہے۔ ڈاکٹر تیجانی سماوی کے قلم سے ایسی ایسی کتب وجود میں آئیں جنھیں پڑھ کر سینکڑوں، ہزاروں نہیں بلکہ لاکھوں لوگ حق کو پہچان گئے اور شیعہ مذہب کو قبول کیا جو کہ اسلام کا حقیقی، روشن اور تابناک چہرہ ہے۔
کتب کی فہرست
ہر شیعہ کو یہ کتب لازمی پڑھنا چاہئیں۔ تا کہ انسان برادران اہل سنت کی جانب سے کیے گئے سوالات کا جواب دے سکے اور ان کے اذہان میں موجود خدشات کو دور کر سکے۔ شاید کہ اس سے کوئی بندہ خدا حق کو پہچان جائے اور اسی طفیل ہماری نجات کی سبیل ہو جائے۔ اس لیے کہ اپنی ذاتی اصلاح اور تربیت کے بعد سب سے افضل کام امر بالمعروف و نہی عن المنکر کرنا ہے ۔
اسی لیے جب امیر المومنینؑ کو رسول خدا نے یمن کی جانب تبلیغ دین کے لیے بھیجا تو فرمایا ،’ یا علیؑ، اگر آپ کے ذریعہ سے کوئی ایک شخص بھی راہ ہدایت پر آ جائے تو آپ کے لیے دنیا و مافیھا سے بہتر ہے۔’
ڈاکٹر تیجانی سماوی کی کتب کی فہرست درج ذیل ہے۔
پھر میں ہدایت پا گیا
متذکرہ کتاب میں مصنف نے اپنی ذاتی زندگی کے کچھ پہلوؤں پر کچھ روشنی ڈالی ہے، نیز یہ کہ کیسے اوائل زندگی میں وہ بنیادی طور پر مالکی فقہ سے تعلق رکھتے تھے، پھر تصوف کی جانب بھی رغبت ہوئی اور دورہ سعودی عرب کے بعد سلفی مذہب اچھا معلوم ہوا۔ پھر یہ کہ کیسے بالآخر خدا نے ہدایت عطا کی اور شیعہ مذہب قبول کیا۔
المیہ جمعرات
مندرجہ بالا علمی تحریر میں حدیث قرطاس کا مختلف زاویوں سے تجزیہ کیا گیا ہے۔ کہ جب رسول خداﷺ نے اپنے بستر بیماری پر وصیت لکھنے کی غرض سے کاغذ قلم مانگا تو کون لوگ تھے جو کاغذ قلم دینے کی راہ میں حائل ہوئے اور ان کے اس عمل کے پیچھے کیا وجہ چھپی تھی۔
شیعہ ہی اہلسنت ہیں
اس کتاب میں تاریخی منابع سے ثابت کیا گیا ہے کہ حقیقت میں شیعہ ہی اہلسنت ہیں کیوں کہ یہ فقط شیعہ ہی ہیں جو سنت رسولﷺ پر عمل کرتے ہیں کیوں کہ اہل سنت خود کو سنت رسول ﷺ پر عمل کرنے کے سبب جو اہل سنت کہتے ہیں یہ سراسر غلط ہے۔ اس لیے کہ ان تھ سنت رسولﷺ پہنچی ہی نہیں کیوں کہ حضرات شیخین نے اپنے دور حکومت میں حدیث اور سنت بیان کرنے پر پابندی لگا رکھی تھی۔ حدیث رسولﷺ اور سنت رسول ﷺ بیا ن کرنے والے کو سخت سزاؤں کا سامنا کرنا پڑتا تھا۔ تو ایسے حالات میں کیوں کر ممکن ہے کہ عوام الناس تک صحیح سنت رسولﷺ پہنچے۔ اہل سنت برادران جس راستے کو اپنا کر خود کو اہل سنت گردانتے ہیں وہ در حقیقت سنت شیخین ہے۔
مظلومیت امیر المومنین امام علیؑ
مذکورہ کتاب میں بعد از رسول ﷺ امیر المومنینؑ کے حق خلافت کے غصب کرنے کے واقعہ پر مفصل تجزیہ کیا گیا ہے کہ کیسے امیر کائناتؑ کا حق غصب کرنے کی خاطر کہیں سقیفہ کا ڈرامہ رچایا گیا، کبھی اپنی مرضی سے اپنے بعد کے خلیفہ کو نامزد کیا گیا تو کہیں مرنے سے قبل ایسی شوریٰ تشکیل دی گئی جس کا لازمی نتیجہ ہی یہ ہو کہ خلافت علیؑ کی جانب نہ لوٹ سکے اور یہ علیؑ، نیز اللہ، رسولﷺ اور اسلام کے دشمنوں کے ہاتھ میں کٹھ پتلی بن کر رہ جائے۔ اس کے ساتھ ہی امیرالمومنینؑ کی بیعت کے بعد آنے والے فتنوں جن میں سر فہرست جنگ جمل، جنگ صفین اور جنگ نہروان ہیں پر تجزیہ کیا گیا ہے اور امیر المومنینؑ کی مظلومیت سے عوام الناس کو متعارف کروایا گیا ہے۔
اس کے علاوہ ڈاکٹر تیجانی سماوی کی کچھ مزید شاہکار کتب کے نام درج ذیل ہیں۔
اہلبیت حلال مشکلات، اہل ذکر، ہو جاؤ سچوں کے ساتھ، حکم اذاں۔
محترم ڈاکٹر تیجانی سماوی کی کتب اگر کوئی غیر شیعہ پڑھے جو حق کا متلاشی بھی ہو اور تعصب کی عینک اتار کر غیر جانبدارانہ طریقے سے ان کا مطالعہ کرے تو ہو ہی نہیں سکتا کہ یہ کتب پڑھنے کے بعد انسان حق سے دور رہ جائے!!
خدا ہم سب کو تعلیمات اہلبیتؑ پڑھنے، سمجھنے، ان پر عمل کرنے اور پھر اس عمل کو اپنی آخرت تک کے لیے محفوظ رکھنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین!
ہم معزز قارئین کی جانب سے مثبت رد عمل کے منتظر ہیں نیز آپ سب کے تعاون کی توقع کرتے ہیں کہ علوم آل محمدؑ کی ترویج میں ہمارے معاون ثابت ہوں اور اس معلومات کو اپنے دوست احباب اور عوام الناس تک پہنچائیں۔ نیز ہماری اصلاح کے لیے کوئی مشورہ یا رائے دینا چاہیں تو تبصرے کے خانے میں ہمیں مطلع فرمائیں۔ آپ کی قیمتی رائے کا احترام کیا جائے گا۔ جزاکم اللہ خیرا
