اونٹ کہ اونٹنی۔۔۔؟؟؟
تاریخ عالم ایسے واقعات سے پر ملتی ہے جہاں لوگ اپنی ضد، انا اور رعونت کے سبب اپنی غلطی تسلیم کرنے سے کتراتے ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ شیطان نے سب کچھ معلوم ہوتے ہوئے بھی انکار کیا اور بارگاہ خداوندی میں مردود و ملعون ٹھہرا۔ ایسا ہی ایک واقعہ تاریخ و سیر کے طلباء کو اس وقت ملتا ہے کہ جب جنگ صفین سے واپسی پر دمشق میں داخل ہونے کے وقت ایک کوفی شخص اونٹ پر سوار تھا۔ دمشق کا ایک شخص اس کوفی شخص سے الجھ پڑا اور کہنے لگا کہ یہ اونٹنی تو میری ہے جو صفین میں مجھ سے چھین لی گئی تھی۔ ان دونوں کا معاملہ حاکم کے پاس پہنچا تو دمشق کے رہنے والے نے اپنے حق میں شہادت دینے کے لیے پچاس آدمی پیش کر دیے جو اس بات کی گواہی دیتے تھے کہ یہ اونٹنی اس شخص کی ہے۔ پس حاکم نے کوفی شخص کے خلاف فیصلہ کر دیا اور کہا کہ وہ یہ اونٹ اس دمشق کے رہنے والے کے حوالے کر دے۔ یہ سننا تھا کہ وہ کوفی شخص بولا، جناب خدا آپ کا بھلا کرے، یہ اونٹنی نہیں بلکہ یہ تواونٹ ہے۔ یہ سن کر حاکم کہنے لگا اب جو حکم دیا جا چکا ہے وہ تونافذ ہو گیا ہے۔ لیکن باطن میں چونکہ معلوم تھا کہ فیصلہ غلط تھا اور لوگوں کے سامنے اپنی غلطی تسلیم کرنے سے عار محسوس کی تھی اس لیے بعد میں اس کوفی شخص کو بلا کر اس اونٹ کی قیمت معلوم کی اور اس رقم سے دگنی رقم اسے ادا کی ۔ اس کے ساتھ ساتھ اس شخص کو یہ بھی کہا کہ جا کر علیؑ کو یہ کہنا کہ میں ایسے ہی ایک لاکھ افراد کے لشکر کے ساتھ آپ کےساتھ مقابلہ کے لیے موجود ہوں جو اونٹ اور اونٹنی میں تمیز بھی نہیں کر سکتا اور ان کی میرے لیے اطاعت کا یہ عالم ہے کہ میں نے انہیں صفین کی طرف جاتے ہوئے بدھ کے روز ہی جمعہ کی نماز پڑھا دی تھی لیکن کسی نے بھی کوئی اعتراض نہیں کیا تھا بلکہ بلا چوں چراں بدھ کے دن ہی جمعہ کی نماز پڑھ بھی لی تھی۔ ا ور صرف یہی نہیں بلکہ انہوں نے عمر و بن العاص کی یہ بات بھی تسلیم کر لی کہ چونکہ علیؑ نے عمار کو اپنے دفاع کے لیے وہاں نکالا تھا اس لیے عمار کے قاتل علیؑ ہوئے’۔ اس کے بعد وہ لوگ میری اطاعت میں اس حد تک بڑھ گئے کہ انہوں نے حضرت علی ؑپر لعنت کرنے کو سنت بنا لیا۔
