دین اسلام مکمل ضابطہ حیات
دین اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے۔ انسان کی پیدائش سے لے کر موت تک کوئی شعبہ ہائے زندگی ایسا نہیں ہے جہاں اسلام نے حضرت انسان کی راہنمائی نہ فرمائی ہو۔
جس جس سمت انسان نگاہ دوڑائے تو یہ چیز اظہر من الشمس ہوتی ہے کہ انسان کی راہنمائی کے لیے اسلام نے واضح تعلیمات فراہم کی ہیں جو کہیں بھی انسان کو کسی بھی قسم کی ذہنی کشمکش میں مبتلا نہیں ہونے دیتیں۔ بالکل اسی طرح اسلام نے حضرت انسان کی کھانا کھانے کے آداب سے متعلق بھی مفصل راہنمائی فرمائی ہے۔
کھانا کھانے کے اوقات
کھانا کھانے کے ضمن میں سب سے پہلا مورد یہ ہے کہ انسان کس وقت کھانا کھائے۔ اس لیے کہ مختلف تہذیبوں، ثقافتوں اور رسوم و رواج کے مطابق اقوام عالم نے کھانے کے مختلف اوقات وضح کر رکھے ہیں۔
اس سے متعلق سنت طریقہ کہ جو تعلیمات اہلبیتؑ سے ہم تک پہنچا ہے وہ یہ ہے کہ انسان صبح سویرے کھانا کھائے اور پھر سارا دن گزار کر رات کے وقت عشاء کی نماز سے فارغ ہو کر ایک مرتبہ کھانا کھائے۔
صبح کے وقت کھانے کی تاکید
صبح کے وقت کھانا کھانے کی تاکید کرتے ہوئے صادقؑ آل محمدؑ حضرت امام جعفر صادقؑ فرماتے ہیں، ‘مومن کے لیے صبح کے وقت کچھ کھائے بغیر گھر سے باہر جانا مناسب نہیں ہے کیوں کہ صبح کو کھانا کھا کر جانا عزت و احترام کا باعث ہے۔’ (تہذیب آل محمدؑ، علامہ مجلسی)
اسی طرح حدیث روایت کی گئی ہے کہ ،’جس وقت تم کسی حاجت کے لیے جانا چاہو تو روٹی کا ایک ٹکڑا نمک کے ساتھ کھا کر جاؤکہ اس سے ایک تو عزت ذیادہ ہو گی دوسرے وہ کام جلدی پورا ہو گا۔'(تہذیب آل محمدؑ، علامہ مجلسی)
رات کے کھانے کی اہمیت
انبیاء کے کھانے کے اوقات
امیر المومنین حضرت امام علیؑ فرماتے ہیں ،’انبیاء کرام شام کا کھانا عشاء کی نماز کے بعد کھایا کرتے تھے۔ پس اسے مت چھوڑو کیوں کہ اس کے چھوڑنے سے جسمانی خرابیاں پیدا ہوتی ہیں۔(تہذیب آل محمدؑ، علامہ مجلسی)
رات کے کھانے سے مردانہ تندرستی
حضرت امام موسیٰ کاظمؑ فرماتے ہیں، ‘رات کو کچھ تھوڑا سا کھانا ترک نہ کرو اگرچہ وہ سوکھی روٹی کا یک ٹکڑا ہی ہو کیوں کہ یہ قوت بدن اور مردانہ تندرستی کا باعث ہے۔'(تہذیب آل محمدؑ، علامہ مجلسی)
عشا نامی رگ کی بد دعا
حضرت امام جعفر صادقؑ فرماتے ہیں،’انسانی بدن میں عشا نامی ایک رگ ہوتی ہے۔ اگر انسان رات کو کچھ بھی نہ کھائے تو یہ رگ ساری رات صبح ہونے تک انسان کو بددعا دیتی ہے اور کہتی ہے کہ خدا تجھے بھی ایسے ہی بھوکا رکھے جیسے تو نے مجھے بھوکا رکھا اور خدا تجھے بھی ایسے ہی پیاسا رکھے جیسے کہ تو نے مجھے پیاسا رکھا۔
اس لیے ضروری ہے کہ رات کا کھانا ترک نہ کیا جائے اگرچہ کہ روٹی کا ایک ٹکڑا اور پانی کا ایک گھونٹ ہی کیوں نہ ہو۔’ (تہذیب آل محمدؑ، علامہ مجلسی)
کھانے سے پہلے ہاتھ دھونا
کھانا کھانے کے معاملے میں سب سے پہلے ضروری ہے کہ انسان دستر خوان پر آنے سے پہلے اپنے دونوں ہاتھ دھوئے۔
ہاتھ دھونے سے فقر کا خاتمہ
حدیث میں وارد ہوا ہے، ‘جو شخص یہ چاہتا ہے کہ اس کے گھر میں ذیادہ برکت ہو تو کھانے سے پہلے ہاتھ ضرور دھوئے۔ اس لیے کہ کھانے سے پہلے اور کھانے کے بعد ہاتھ دھونا افلاس کو دور کرتا ہے اور بدن کے بہت سے دردوں کو ختم کر دیتا ہے۔'(تہذیب آل محمدؑ، علامہ مجلسی)
کھانے میں برکت
حضرت امام جعفر صادقؑ فرماتے ہیں کہ، ‘کھانا کھانے سے پہلے جب ہاتھ دھویا کرو تو رومال وغیرہ سے صاف مت کرو کیوں کہ جب تک ہاتھ میں تری رہتی ہے کھانے میں برکت رہتی ہے۔'(تہذیب آل محمدؑ، علامہ مجلسی)
روزی میں اضافہ
حدیث میں وارد ہوا ہے کہ ،’کھانے کے بعد ہاتھ دھو کرمنہ پر مل لینا چاہئیں کہ اس سے چہرے کی چھائیاں دور ہو جاتی ہیں اور روزی بڑھتی ہے۔’ (تہذیب آل محمدؑ، علامہ مجلسی)
جوتے اور موزے اتار دیں
انسان جب دستر خوان پر آئے تو اسے چاہیے کہ جوتے اور موزے اتار دے۔ رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں ،’ جس وقت کھانا کھاؤ تو جوتے اور موزے پاؤں سے نکال لیا کرو یہ بہترین سنت ہے اور تمہارے پاؤں کے لیے باعث سکون بھی ہے۔'(تہذیب آل محمدؑ، علامہ مجلسی)
دستر خوان پر بیٹھنے کا انداز
جب انسان ہاتھ دھو کر، جوتے اور موزے اتار کر دستر خوان پر آئے تو چاہیے کہ عاجزی اور انکساری کے ساتھ دوزانو حالت میں دستر خوان پر بیٹھے۔
روایات میں مروی ہے کہ رسول اللہﷺ جب کھانا کھانے بیٹھتے تو اس طرح بیٹھتے جیسے نمازی تشہد میں بیٹھتا ہے، دایاں زانو بائیں زانو پر ہوتا تھا اور دائیں پاؤں کی پشت بائیں پاؤں کے تلوے سے ملی ہوتی تھی اور ساتھ میں یہ بھی ارشاد فرمایا کرتے تھے، ‘میں بندہ ہوں، بندوں ہی کی طرح کھانا کھاتا ہوں اور بندوں ہی کی طرح بیٹھتا ہوں۔'(تہذیب آل محمدؑ، علامہ مجلسی)
روٹی کی عزت
دستر خوان پر آنے کے بعد کھانا لایا جائے تو چاہیے کہ سالن کی پلیٹ یا پیالے کو روٹی کے اوپرنہ رکھا جائے۔(تہذیب آل محمدؑ، علامہ مجلسی)
روٹی کو انتظار نہ کرواؤ
حدیث میں آیا ہے کہ روٹی کی عزت کرو۔ لوگوں نے دریافت کیا کہ روٹی کی عزت کیسے کی جا سکتی ہے؟ فرمایا گیا، ‘جب روٹی آپ کے سامنے آ جائے تو کھانے لگو اور کسی چیز کا انتظار نہ کرو۔(تہذیب آل محمدؑ، علامہ مجلسی)
کھانا تین انگلیوں سے کھانا
چاہیے کہ کھانا کم از کم تین انگلیوں سے کھایا جائے۔ دو انگلیوں کی مدد سے کھانا کھانے کو تکبر اور غرور کی علامت شمار کیا گیا ہے۔
حضرت امام جعفر صادقؑ سے منقول ہے ،’امیر المومنین امام علیؑ کھانے کے وقت غلاموں کی طرح دوزانو ہو کر بیٹھتے تھےٍ۔ ہاتھ زمین پر رکھ لیتے تھے اور جو چیز تناول فرماتے تھے تین انگلیوں سے کھاتے تھے۔ متکبرین اور جباروں کی طرح دو انگلیوں سے نہ کھاتے تھے۔'(تہذیب آل محمدؑ، علامہ مجلسی)
کھانے کو ٹھنڈا ہونے دو
پہلے یہ حدیث تو درج کی گئی ہے کہ کھانے کو انتظار نہ کروایا جائے لیکن یہ خیال رہے کہ کھانے کو ٹھنڈا ہونے دیا جائے۔ بالکل گرم کھانا نہ کھایا جائے۔
اس لیے کہ حضرت امیر المومنین امام علیؑ فرماتے تھے، ‘گرم کھانے کو ٹھنڈا ہونے دیا کرو کیوں کہ جناب رسول اللہﷺ کے پاس جب گرم کھانا لایا جاتا تھا تو رسول اللہﷺ فرمایا کرتے تھے “کھانے کو ٹھنڈاہونے دو۔ اللہ تعالیٰ نے ہمارا کھانا آگ نہیں بنایا ہے اور ٹھنڈے کھانے میں برکت بھی ہوتی ہے۔”‘(تہذیب آل محمدؑ، علامہ مجلسی)
کھانا کھانے کے بعد
کھانا کھانے کے بعد انسان کو لیٹنا چاہیے۔ حضرت امام علی رضاؑ فرماتے ہیں ، ‘جس وقت تم کوئی چیز کھاؤ تو فوراً چت لیٹ جاؤ اور داہنا پاؤں بائیں پاؤں پر رکھ لو۔’ (تہذیب آل محمدؑ، علامہ مجلسی)
دستر خوان سے ریزے اٹھا کر کھانا
اس چیز کی بے حد تاکید کی گئی ہے کہ انسان کھانا کھانے کے بعد دستر خوان پر گرے ہوئے روٹی کے ٹکڑے اور ریزے اٹھا کر کھا لے۔ امام علیؑ فرماتے تھے، ‘دستر خوان میں سے جو کچھ زمین پر گرے اسے کھا لو کہ اس کا کھانا اللہ تعالیٰ کے حکم سے ہر درد سے شفا بخشتا ہے خاص طور پر اس شخص کو جو اس کے ذریعے سے طالب شفاء ہو۔’ (تہذیب آل محمدؑ، علامہ مجلسی)
پرندوں اور جانوروں کے لیے چھوڑ دو
مندرجہ بالا حدیث کا اطلاق اس صورت میں ہے کہ جب انسان کھانا گھر میں کھائے۔ چنانچہ حضرت امام علی رضا ؑ فرماتے ہیں، ‘اگر انسان جنگل میں کھانا کھائے تو گرے پڑے ریزے پرندوں اور جانوروں کے لیے چھوڑ دے۔’ (تہذیب آل محمدؑ، علامہ مجلسی)
بہشت واجب ہو جاتی ہے
روایت ہے کہ، ‘جو شخص خرما یا روٹی کا ٹکڑا زمین پر پڑا ہوا دیکھے اور اسے پاک کر کے کھا لے تو یہ ابھی پیٹ میں نہ پہنچنے پائے گا کہ بہشت اس کے لیے لکھ دی جائے گی۔’ (تہذیب آل محمدؑ، علامہ مجلسی)
دستر خوان پر ذیادہ بیٹھنا
حضرت امام جعفر صادقؑ فرماتے ہیں، ‘دستر خوان پر ذیادہ بیٹھو کیوں کہ جتنا وقت دستر خوان پر بیٹھنے میں صرف ہو گا وہ تمہاری عمر میں شمار نہ ہو گا۔’ (تہذیب آل محمدؑ، علامہ مجلسی)
خدا ہم سب کو تعلیمات اہلبیتؑ پڑھنے، سمجھنے، ان پر عمل کرنے اور پھر اس عمل کو اپنی آخرت تک کے لیے محفوظ رکھنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین!
ہم معزز قارئین کی جانب سے مثبت رد عمل کے منتظر ہیں نیز آپ سب کے تعاون کی توقع کرتے ہیں کہ علوم آل محمدؑ کی ترویج میں ہمارے معاون ثابت ہوں اور اس معلومات کو اپنے دوست احباب اور عوام الناس تک پہنچائیں۔ نیز ہماری اصلاح کے لیے کوئی مشورہ یا رائے دینا چاہیں تو تبصرے کے خانے میں ہمیں مطلع فرمائیں۔ آپ کی قیمتی رائے کا احترام کیا جائے گا۔ جزاکم اللہ خیرا
